مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 74
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 70 حضرت ابوسعید عرب التبلیغ نے ان کا دل موہ لیا (سیرت المہدی کی ایک روایت کے مطابق ان کا تعلق عرب قوم سے نہ تھا لیکن کثرت سے عرب ممالک میں سفر کرنے اور عربی بولنے کی وجہ سے عرب کہلائے۔ان کے ایک خط کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عربی جملہ میں دیا تھا۔کثرت سے عرب ممالک میں آنے جانے اور عربی زبان بولنے کی وجہ سے ان کا ذکر عرب اصحاب کے زمرہ میں کیا جا رہا ہے۔مرتب) حضرت ابوسعید عرب صاحب بہت بڑے تاجر تھے اور رنگون برما کے علاقہ میں بغرض تجارت رہائش پذیر تھے۔بڑے آزاد مشرب اور نیچریت کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔خدا کے وجود پر بھی ایمان نہ تھا۔بس یہی خیال تھا کہ کھانا ہے اور کمانا ہے۔عرب صاحب 1894ء میں لاہور آئے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”آئینہ کمالات اسلام دی جبکہ ایک مولوی نے آپ کے خلاف لکھی ہوئی ایک کتاب انہیں دی۔مگر یہ دونوں کتابیں وہیں کسی کو دے کر چل دیئے اور پرواہ نہ کی۔انہیں کہا گیا کہ قادیان آئیں مگر یہ نہ آئے۔لیکن خدا کی قدرت دیکھیں کہ پھر وہی کتاب آئینہ کمالات اسلام ان کی نظر سے گزری تو اس کے پڑھنے سے حقیقت اسلام ان پر منکشف ہوگئی۔پھر کیا تھا کہ آپ اس قدر فاصلہ طے کر کے رنگون سے تشریف لائے اور دسمبر 1902 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب آپ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحبہ نے ان کے حالات حضور کی خدمت میں سنائے۔پھر حضور نے خود ان سے ان کے حالات