مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 72 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 72

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 80 68 کے اس ماً مور کو بدوں کسی نشان طلب کرنے اور دیکھنے کے مانا اور قبول کیا اور ہم امید کی کرتے ہیں کہ ہم کو خدا بھی قبول کرے گا اور ضرور کرے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ اور واقعی نشان طلب کرنا تو میرے خیال میں ضعف یقین کی دلیل ہے کیونکہ حق تو اپنے ساتھ ایک ایسی روشنی رکھتا ہے جس کا اثر فورا قلب پر پڑتا ہے بشرطیکہ ذراسی بھی صلاحیت و قابلیت ہوورنہ وه فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضاً والا مضمون ہو جاتا ہے۔نہ کوئی نشان فائدہ دیتا ہے نہ کوئی معجزہ۔جیسا کہ ابو جہل وغیرہ میں مشاہد ہے۔وقس على هذا ـ اللهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَهُ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَارْزُقْنَا اِحْتَنَابَہ۔اور ہم کو تو زیادہ اس بات کا خیال ہے کہ۔۔۔يَا حَسْرَةً عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللهِ نہ کہنا پڑے۔ہائے افسوس وہ پیر جو اپنے مریدوں کو سوائے شرک کے اور کچھ تعلیم نہ دیں ، دنیا کے کئی قبر پرست گدا یا غوث یا قطب یا اللہ کے بدلے پکارنے والے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینے والے تو لوگوں سے بیعت لیویں اور لوگوں کو بھی ان سے بیعت کرنے میں کوئی تامل نہ ہو۔اور ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو مامور من اللہ بھی کہتا ہے اور تعلیم بھی وہی دیتا ہے جو محمد رسول اللہ لہ دیتے تھے اس سے انکار ہو۔اور اس پر کفر کے فتوے دیئے جائیں۔لا حول ولا قوة إلا بالله العلی العظیم۔اب میں اس رسالہ کو اس آیت پر ختم کرتا ہوں ، شاید اس سے کسی کو کوئی فائدہ پہنچ جاوے۔اعوذ بالله من الشيطان الرجيم فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ - قريب ہے کہ تم میرا کہا یاد کرو گے اور میں اپنے کام خدا کے سپر د کرتا ہوں وہ سب کے حال سے خوب آگاہ ہے۔سُبحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔والسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين حرّره الراجى عفو التوّاب أحمد رشيد نواب الأحمدى كان الله له ـ وذلك فى 4 من شهر ربيع الأول 1324 من هجرة من له العز والشرف صلى الله بقرية قاديان من أقطار پنجاب ضلع گورداسپور۔فقط “ 0000