مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 19
19 روحانی نبی تراش ہے۔اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔“ ( حاشیہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۷) (۵) افسوس اُن لوگوں پر جو اس اُمت کو ایک مُردہ اُمت خیال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک یہ بڑے گناہ کی بات ہے کہ مثلاً کوئی یہ دعویٰ کرے کہ میرے پر مسیح ابن مریم کی طرح وحی نازل ہوتی ہے۔ان کے نزدیک ایسا شخص کافر ہے۔کیونکہ قیامت تک خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے تعجب کہ یہ لوگ استقدر تو مانتے ہیں کہ اب بھی خدا تعالیٰ سُنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا مگر یہ نہیں مانتے کہ اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ پہلے بولتا تھا حالانکہ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو پھر سلنے پر بھی کوئی دلیل نہیں۔خدا تعالی کی صفات کو معطل کرنے والے سخت بد قسمت لوگ ہیں۔اور در حقیقت یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے نبوت ہی باطل ہوتی ہے کیا ہم ختم نبوت کے یہ معنے کر سکتے ہیں کہ وہ تمام برکات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ملنی چاہئیں تھے وہ سب بند ہو گئے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کی خواہش کرنا لا حاصل ہے لعنت اللہ علی الکاذبین۔کیا یہ لوگ بتلا سکتے ہیں کہ اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا فائدہ کیا ہوا۔جن لوگوں کے ہاتھ میں بجز گزشتہ قصوں کے اور کچھ نہیں۔ان کا مذہب مردہ ہے اور معرفت الہی کا ان پر دروازہ بند ہے۔مگر اسلام مذہب زندہ ہے۔اور خدا تعالی قرآن شریف