مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 18 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 18

18 آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا امتی ہونا ثابت نہ کرے۔اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پا سکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہو سکتا ہے۔کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی مگر علی نبوت جس کے معنے ہیں۔محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸٬۲۷) (۳) افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو نکلتی ہے نہ تعریف۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو یہ دعا سکھلاتا ہے اهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عليهم پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ دعا کیوں سکھلائی گئی۔“ (حاشیہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۱-۱۰۰) (۴) اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔اور آپ کی توجہ