مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 17
17 اسے بدر کہا جاتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالات نبوت ختم ہو گئے۔جو یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبر دستی ختم ہوگئی۔۔۔انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی ان کو نہیں ہے۔باوجود اس کمزوری فہیم اور کمی علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور ان پر کیا افسوس کروں۔اگر ان کی یہ حالت نہ ہو گئی ہوتی اور حقیقت اسلام سے بکلی دور نہ جا پڑے ہوتے تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی۔“ ( تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ اخبار الحکم مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۵ء) (۲) جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا۔۔۔۔وہ خاتم الانبیاء بنے۔مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اُس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا۔بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے۔بجز اُس کی مُہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔اور اس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا۔اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔اور اُس کی ہمت اور ہمدردی نے اُمت کو ناقص حالت پر چھوڑ نانہیں چاہا۔اور ان پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیض وہی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے۔اور جو شخص اتنی نہ ہو اُس پر وحی الہی کا دروازہ بند ہو۔سوخدا نے ان معنوں سے