مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 14 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 14

14 حضرت عمر نبی ہو جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں ہوتے۔۔۔پس یہ آیت خاتم النبین کے مخالف نہیں کیونکہ خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کی اُمت سے نہ ہو۔ہمارے مخالف علماء کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی بوت کے خلاف عموماً آیت خاتم النبیین اور حدیث لائسی بَعْدِي پیش کی جاتی ہے۔مگر مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان سے مراد فقط یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی نبوت بند ہے اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مذہب ہے۔در حقیقت بزرگانِ سلف میں سے کسی ایک مسلم بزرگ کا بھی کوئی ایسا قول پیش نہیں کیا جا سکتا جس میں آنحضرت کے بعد نبوت غیر تشریعی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ملے بند قرار دی گئی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد نبی نہ ہوگا اور دوسری طرف مسیح موعود کی آمد کی بشارت دیتے ہوئے اُسے چار دفعہ نبی اللہ کہہ کر پکارا ( دیکھو مسلم شریف باب نزول عیسی ) ان دونوں قسم کی احادیث کی تطبیق کرتے ہوئے علماء سلف اس نتیجہ پر پہنچے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے بند ہونے سے مُراد یہ ہے کہ حضور کے بعد تشریعی نبوت بند ہے۔اور مسیح موعود چونکہ آپ کی شریعت کا خادم ہوگا اس لئے اس کی نبوت نہ آیت خاتم النبیین کے منافی ہے اور نہ حدیث لا نبي بعدي کے مخالف۔پس اگر