مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 8
8 قبلہ بناتا ہوں اور شریعتِ اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلعم کی اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے، بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے۔“ حضرت مرزا صاحب کا مکتوب آخری مندرجہ اخبار عام لاہور مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) (۴) ”میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہوکر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مُراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔“ (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۶۸) حضرت اقدس کے ان ارشادات سے واضح ہے کہ (۱) آپ کا دعویٰ جیسا کہ مخالف آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں نبوت تشریعیہ یا نبوت غیر تشریعیہ مسئلہ کا نہیں بلکہ بات غیر تشر یعیہ خلیہ کا یا یوں کہنا چاہئے کہ انٹتی نہیں ہونے کا ہے۔(۲) اور آپ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ایک تو تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے ہیں دوسرے آپ کے بعد ایسا نبی جو نئی شریعت لانے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ پیش کرنے یا براہِ راست نبوت پانے کا دعویٰ کرنے والا ہو بے شک نہیں آسکتا۔لیکن ایسا نبی جو پہلے آپ کا امتی ہو اور جس نے نبوت آپ کے وسیلہ و فیضان سے پائی ہو آ سکتا ہے۔