مردوں کو اہم زریں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 25

مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 21

خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (21) جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گزاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صُلِحِيْنَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا ( بنی اسرائیل : 26) کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی ایسے مشکلات پیش آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو۔جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔تمہاری نیت کا ثواب تم کومل کے رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مد نظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا۔حضرت ابراہیم کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے۔پس خدا تعالیٰ کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔“ ( ملفوظات، جلد 10 ، صفحہ 130 تا 131 ،ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) نیت صحیح ہونی چاہئے۔پس بہت سے لوگ جو آج بھی یہ سوال پوچھتے ہیں کہ والدین کے بھی فرائض ہیں۔ان کو ایسے حالات میں ہم کیسے ادا کریں؟ تو ان کے لئے یہ جواب کافی ہے۔بہر حال ایک مرد کی مختلف حیثیتوں سے جو ذمہ داریاں ہیں انہیں اسے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اپنے گھروں کو ایک ایسا نمونہ بنانا چاہئے جہاں محبت اور پیار کی فضاہر وقت قائم رہے۔ایک مرد خاوند بھی ہے، باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے۔اس لحاظ سے اسے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے اور مردوں کی بہت ساری حیثیتیں اور بھی ہیں لیکن یہ تین حیثیتیں