مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 20
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (20) رہے تھے اور اس کے بعد آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ ان کے حق میں دعا کیا کرو“۔(وہ احمدی نہیں تھے۔غیر مسلم تھے۔ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے۔سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق پر ہوجاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے۔شایدخدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔دل و جان سے ان کی خدمت بجا لاؤ“۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 175 حاشیہ۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان)۔پس یہ عمومی اصول بھی ہے تبلیغ میں کہ نرم زبان ہمیشہ استعمال ہونی چاہئے اعلیٰ اخلاق دکھلانے چاہئیں۔پھر ایک اور واقعہ ہے۔یہاں باپ بھی مسلمان ہے۔اس کا تفصیلی جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا۔” ایک شخص نے سوال کیا کہ یا حضرت ! والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کی ہے مگر میرے والدین حضور کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجھ سے سخت بیزار ہیں اور میری شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے۔چنانچہ جب میں حضور کی بیعت کے واسطے آنے کو تھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ ہم سے خط و کتابت بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے۔اب میں اس فرض الہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہوسکتا ہوں“۔(اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ والدین کی خدمت کرو اور وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تعلق نہیں رکھنا چاہتے تو میں اس خدمت کو ، اس فرض کو کس طرح پورا کروں )۔آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف