مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 8
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (8) بعض مرد کہہ دیتے ہیں کہ عورت میں فلاں فلاں برائی ہے جس کی وجہ سے ہمیں سختی کرنی پڑی۔اس پہلو سے مردوں کو پہلے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ دین کے معیار پر پورا اترنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسے ہی مردوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہوسکتی ہے۔“ ( پہلی شرط تو یہی ہے کہ مرد نیک ہو تبھی اس کی بیوی بھی صالحہ ہوگی۔) فرمایا کہ ”ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔فرمایا کہ ” قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اُس کا اثر ہوتا ہے“۔صرف باتوں کی نصیحت نہ کرو۔صرف ڈانٹ پھٹک نہ کرو بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرو کہ تم نیک ہو اور تمہارا ہر قدم خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا ہے۔ایسی نصیحت جو عمل سے ہوگی تو فرمایا کہ اس کا اثر ہوتا ہے۔فرمایا کہ عورت تو در کنار اور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے۔( کوئی نہیں مانتا جب تک عمل نہ ہو۔اگر مرد کوئی کمی یا خامی اپنے اندر رکھے گا تو عورت ہر وقت کی اُس پر گواہ ہے۔فرمایا کہ۔۔۔۔جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے؟ نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔فرماتے ہیں کہ ”بھلا جب خاوند رات کو اٹھ اٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے، تو عورت ایک دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور متأثر ہو گی۔فرماتے ہیں کہ عورت میں متاثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا۔(عورتوں کو درست کرنے کے لئے کسی سکول کی ضرورت نہیں ہے، کسی ادارے کی ضرورت نہیں ہے۔) ” جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔“ (اگر اصلاح کرنی ہے تو خاوند اپنی اصلاح کر لیں۔اپنے عملی نمونے دکھائیں