مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 2
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (2) اَشْهَدُ اَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ- مُلكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اسلام کی تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔اگر ہم میں سے ہر ایک اس رہنمائی پر عمل کرنے والا بن جائے تو ایک حسین معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔آج غیر مسلم دنیا جو اسلام پر اور مسلمانوں کے عمل پر اعتراض کرتی ہے اس اعتراض کے بجائے یہ لوگ اسلام کی تعلیم پر صحیح رنگ میں عمل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے نمونوں کی مثال دے کر اسلام کے معتقد ہو جاتے۔قرآن کریم میں بے شمار احکامات ہیں لیکن ان سب کو ایک جگہ ایک فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر جمع کر دیا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَة (الاحزاب:22 ) کہ یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر زندگی گھر سے لے کر وسیع معاشرتی تعلقات تک قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والی تھی۔مگر بدقسمتی سے مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو پڑھتی تو ہے، اس بات کو بڑے احترام کی نظر سے بھی دیکھتی ہے لیکن اس پر عمل کے وقت اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔