مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 17
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (17) سنبھال لے گا۔اس کا کفیل ہو جائے گا۔صلاحیت کے لئے کوشش کرے یعنی اس کی تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ دے۔فرمایا کہ۔۔۔۔۔حضرت داؤد علیہ السلام کا ایک قول ہے کہ میں بچہ تھا۔جوان ہوا۔اب بوڑھا ہو گیا۔میں نے متقی کو کبھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا کہ اسے رزق کی مار ہو۔اور نہ اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے دیکھا۔اللہ تعالیٰ تو کئی پشت تک رعایت رکھتا ہے۔پس خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ“۔( بات وہی ہے کہ اولاد کا حق ادا کرنے کے لئے بھی اپنی حالت کو اس کے مطابق ڈھالنا ہو گا جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور تبھی اگلی نسل جو ہے وہ صحیح رستوں پر چلنے والی ہوگی اور والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنے گی۔) آپ فرماتے ہیں ” خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو۔فرمایا کہ۔۔۔۔۔۔۔پس وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اول خودا اپنی اصلاح کرو۔اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پر ہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔“ ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 108 تا 110۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان ) جہاں اسلام باپ کو یہ کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دو اور ان کے لئے دعائیں کرو وہاں بچوں کو بھی حکم دیتا ہے کہ تمہارا بھی کچھ فرض ہے۔جب تم بالغ ہو جاؤ تو ماں باپ کے بھی تم پر کچھ حقوق ہیں۔ان کو تم نے ادا کرنا ہے۔یہ رشتوں کے حقوق کی کڑیاں ہی ہیں جو ایک دوسرے سے جڑنے سے پرامن معاشرہ پیدا کرتی ہیں۔