مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 18
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (18) ماں باپ کے حق ادا کرنے کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کی کتنی اہمیت ہے۔اس بات کا ادراک ہر مومن کو ہونا چاہئے۔ایک لڑکا جب بالغ ہوتا ہے تو اس نے کس طرح ماں باپ کا حق ادا کرنا ہے اس بات کو سمجھاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا۔عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں۔فرمایا۔کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں زندہ ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔(صحیح البخاری کتاب الجہاد والسير باب الجهاد باذن الا بوین حدیث 3004) پس والدین کی خدمت کی اہمیت کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ آپس میں محبت اور پیار کو پھیلانے کے لئے والد کے دوستوں سے بھی حسنِ سلوک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ انسان کی بہترین نیکی یہ ہے کہ اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے جبکہ اس کا والد فوت ہو چکا ہو۔( سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی برالوالدین حدیث 5143) پھر اس بات کو مزید کھول کر ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت ابواسید الساعدی" کہتے ہیں کہ ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی نیکی ہے جو میں ان کے لئے کرسکوں۔آپ نے فرمایا: ہاں کیوں نہیں۔تم ان کے لئے دعائیں کرو۔ان کے لئے بخشش طلب کرو۔انہوں نے جو وعدے کسی سے کر رکھے تھے انہیں پورا کرو۔ان کے عزیز