مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 12
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (12) خیال آیا کہ میں نے اسلام کو چھوڑ کے غلطی کی تھی۔دوبارہ اسلام کی طرف رجوع کیا) ” تو اس نے بیوی کو ( بھی ) کہا کہ (اب) تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو۔اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑ گئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں“۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 208-209۔ایڈیشن 1985 ءمطبوعہ انگلستان )۔یہ تو ایک انتہا ہے کہ مرد اسلام سے بھی دور ہٹ گیا اور دور ہو کر عیسائیت اختیار کر لی لیکن بہت سے مرد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اسلام کو تو نہیں چھوڑتے۔نام کی حد تک اسلام سے منسلک رہتے ہیں۔اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں لیکن آزادی کے نام پر بہت سی غلط حرکتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ پہلے بھی میں ذکر کر کے آیا ہوں اور پھر ان کی دیکھا دیکھی یا مرد کے کہنے پر عورتیں بھی آزادی کے نام پر اسی ماحول میں ڈھل جاتی ہیں۔پھر کچھ عرصہ بعد مردوں کو خیال آتا ہے کہ بیوی زیادہ آزاد ہو گئی ہے اور جب اس کو اس آزادی سے واپس لانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پھر ماردھاڑ بھی یہاں ہوتی ہے۔یہاں بھی یہی قصے اور واقعات ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ پھر ان ممالک میں پولیس فوراً بیچ میں آجاتی ہے۔عورتوں اور بچوں کے حقوق کے ادارے جو ہیں وہ بیچ میں آ جاتے ہیں اور پھر گھر بھی ٹوٹتے ہیں اور بچے بھی برباد ہوتے ہیں۔پس اس سے پہلے کہ گھر ٹوٹیں اور بچے برباد ہوں ایسے مردوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے جو ان پر اپنے بیوی بچوں کے بارے میں دین ڈالتا ہے اور جو اسلام نے ان کی ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔عورتوں کے حق اور ان سے سلوک کے بارے میں ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی