مردوں کو اہم زریں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 13 of 25

مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 13

خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (13) دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی۔مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عليهن ( البقرة 229 ) کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں، ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر (حقوق) ہیں۔فرمایا کہ ” بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔یعنی ایسی سختی ہے ہاتھ منہ کے پردے کی اس طرح سختی ہے کہ عورت کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔اس طرح کی سختی نہیں ہونی چاہئے۔لیکن اسلام بڑا سمویا ہوا مذہب ہے۔دوسری طرف عورتوں کو بھی اعتدال کرنا چاہئے کہ پردے کی سہولت کے نام پر ضرورت سے زیادہ ہی آزادی حاصل نہ کر لیں اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض ضرورت سے زیادہ آزاد ہوگئی ہیں اور برائے نام پردہ رہ گیا ہے۔یہ بھی غلط ہے۔پس عورتیں بھی یاد رکھیں کہ سر اور جسم کو حیا کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ڈھانپنا ضروری ہے۔یہی اللہ کا حکم ہے۔اس کا خیال رکھنا چاہئے۔میاں بیوی کے تعلق کا معیار کیا ہونا چاہئے؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”چاہئے کہ بیویوں سے خاوندوں کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اُس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو“۔( گھر میں ہی تعلقات ٹھیک نہیں تو پھر یہ بھی مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بھی صلح ہو اور اللہ کے احکامات پر عمل ہو۔فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَھلہ۔تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل