مردانِ خدا

by Other Authors

Page 77 of 97

مردانِ خدا — Page 77

مردان خدا 22 حضرت قاضی ضیاءالدین صاحب اختیار کیا اور اس حادثہ جانکاہ کے درمیان ایک شیر خوار بچہ رحمت اللہ نام بھی دودھ نہ ملنے کے سبب سے بھوکا پیاسا راہی ملک بقا ہوا۔ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ عاجز کے دو بڑے بیٹے عبدالرحیم و فیض رحیم تپ محرقہ سے صاحب فراش ہوئے۔فیض رحیم کو تو ابھی گیارہ دن پورے نہ ہونے پائے کہ اس کا پیالہ عمر پورا ہو گیا اور سات سالہ عمر میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ کر جلدی سے اپنی پیاری ماں کو جاملا اور عبدالرحیم تپ محرقہ اور سر سام سے برابر دو ڈھائی مہینے بے ہوش میت کی طرح پڑا رہا۔سب طبیب لا علاج سمجھ چکے کوئی نہ کہتا کہ یہ بچے گا لیکن چونکہ زندگی کے دن باقی تھے بوڑھے باپ کی مضطر بانہ دعا ئیں خدا نے سن لیں اور محض اس کے فضل سے صحیح سلامت بیچ نکلا۔اگر چہ پٹھوں میں کمزوری اور زبان میں لکنت ابھی باقی ہے۔یہ حوادث جانکاہ تو ایک طرف ادھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا۔آبروریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوششوں میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا۔اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ عاجز راقم کس قدر بلتیہ دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا اور یہ سب الہی آفات و مصائب کا ظہور ہوا جس کی حضور نے پہلے سے ہی مجمل طور پر خبر کر دی تھی۔( رفقاء احمد : جلد ۶ : ص: ۱۲،۱۱) پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی روحانی ترقیات کے لئے ابتلاؤں کو بطور زینہ رکھا ہے اس کے عین مطابق حضرت قاضی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ابتلاؤں میں گزار کر آپ کے ایمان کو پختہ بنادیا۔اور چونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے قبل از وقت ہی ابتلاؤں کے آنے کی خبر دے دی تھی اس لئے ایک طرف دکھوں کی تکلیف اور دوسری اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی خوشی۔ایک عجیب کیفیت تھی جس میں حضرت قاضی صاحب ایک لمبا عرصہ تک صبر وحوصلہ کے ساتھ رہے۔