مردانِ خدا — Page 73
مردان خدا ۷۳ حضرت مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری جاہلیت کی موت پر مرا۔پھر جس حالت میں خداداد عقل تجھ کو خود بتا رہی ہے کہ جناب حضرت مرزا صاحب امام زماں ہیں تو ان سے روگردان ہو کر کہاں جائے گا۔کیا دنیا کی چند روزہ زندگی کے نام اور جھوٹی عزت پر اپنے ابدالا باد کے نفع کو غارت کر دے گا۔اوکوتہ اندیش جس روحانی مرض میں تو مبتلا ہے اس کی دوا تک اللہ نے تجھ کو پہنچایا۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب ایسا بے ریا فاضل اپنا ذاتی تجربہ پیش کر کے اس دوا کا فائدہ مند ہونا بتا تا ہے پھر کیسی کم بختی تجھ کو آئی ہے۔اپنی صحت روحانی کا دشمن بن کر اندرونی پلیدی اور منافقانہ زندگی میں ڈوبار ہنا چاہتا ہے۔اے حضرات میں نے فرشتہ کی بات سن لی اور تاریخ ۱۱ جنوری ۱۸۹۴ ء شب جمعہ کو حضرت امام الوقت مجدد زماں جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان سے بیعت کر لی اور ان کو اپنا امام قبول کر لیا۔فالحمد للہ علی ذالک بیعت کرنے کے بعد تین دن تک قادیان شریف میں رہنے کا موقع ملا۔ان اخیر کے تین دن میں جب میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا تھا تو مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ اب میں نماز پڑھتا ہوں یعنی مجھے عجیب حلاوت اور عجیب مزا نماز میں ملتا تھا۔۱۳ جنوری ۱۸۹۴ ء میں اپنے امام سے رخصت ہو کر لاہور میں آیا اور ایک بڑی دھوم دھام کا لیکچر انگریزی میں دیا۔جس میں حضرت اقدس کے ذریعہ سے جو کچھ روحانی فائدہ ہوا تھا اس کا بیان کیا جب میں اس سفر پنجاب سے ہو کر مدراس پہنچا تو میرے ساتھ وہ معاملات پیش آئے جو صداقت کے عاشقوں کو ہر زمانے و ہر ملک میں اٹھانے پڑے ہیں۔مسجد میں وعظ کہنے سے روکا گیا ہر مسجد میں اشتہا ر کیا گیا کہ حسن علی سنت و جماعت سے خارج ہے کوئی اس کا وعظ نہ سنے۔پولیس میں اطلاع دی گئی کہ میں فساد پھیلانے والا ہوں۔وہ شخص جو چند ہی روز پہلے شمس الواعظین جناب مولا نا مولوی حسن علی صاحب واعظ اسلام کہلا تا تھا صرف حسن علی لیکچرار کے نام سے پکارا جانے لگا۔پہلے واعظوں میں ایک ولی سمجھا جاتا تھا اب مجھ سے بڑھ کر شیطان دوسرا نہ تھا۔جدھر جاتا انگلیاں اٹھتیں۔سلام کرتا جواب نہ ملتا۔مجھ سے ملاقات کرنے کو لوگ خوف کرتے۔میں ایک خوفناک