مردانِ خدا

by Other Authors

Page 52 of 97

مردانِ خدا — Page 52

مردان خدا ۵۲ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی شریف لے کر چلا گیا اور محن سے گذر کر درمیانی در اور محراب کے درمیان بیٹھ کر سر سے پگڑی اتاری اور اس پر قرآن شریف رکھ کر اپنی منزل کی جگہ کو تلاش ہی کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر باہر صحن کی طرف اٹھی کیا دیکھتا ہوں کہ میرے ایک چچا جن کا نام نامی سردار بساکھ سنگھ یا بوجہ اس کے کہ ان کے کیس نہ تھے بساکھی رام سامنے کھڑے جلدی جلدی جوتا اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو دیکھتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا اور میں بھانپ گیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔میں نے فوراً قرآن شریف کو بند کیا پگڑی سر پر رکھی اور جوتا جو میرے پاس ہی رکھا تھا اٹھا کر چا صاحب کی طرف بڑھا۔اتنے میں وہ بھی جوتا کھول کر صحن میں داخل ہو چکے تھے۔وسط صحن تک بڑھ کر میں نے سلام کیا۔انہوں نے چھاتی سے لگا کر پیار کیا اور جب انہوں نے مجھے چھاتی سے جدا کیا میں جلد جلد ( بیت الذکر ) کے صحن سے باہر ہو گیا۔انہوں نے بھی جلدی تو بہت کی مگر جوتا پہنے میں لمحہ بھر دیر ہوئی۔میں (بیت) اقصیٰ کے دروازہ کی طرف لپکا۔جہاں کیا دیکھتا ہوں کہ شیروں کی مانند تین سفید پوش دراز قد جوانمرد کوچہ میں کھڑے ہیں۔ان کو میں نے پہچانا اور سیڑھیوں سے اتر کر ان میں سے ایک کے ساتھ مصافحہ کیا۔مگر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب میں نے محسوس کیا کہ جس شخص کو میں نے۔۔۔مصافحہ کیلئے ہاتھ دیا تھا۔اس کی طرف سے مصافحہ کے جواب میں ایک سخت گرفت نمودار ہوئی۔جس کے ساتھ ہی مجھ پر اس سازش کا انکشاف ہو گیا کیونکہ پاس ہی چوک میں ایک یکہ کھڑا دیکھ لیا۔اس پر میں نے اس زور سے جھٹکا مارا کہ اس بھاری بھر کم جو ان سورما کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔میرا ہاتھ چھٹ گیا اور میں وہاں سے بے تحاشہ اپنے ڈیرے کی طرف دوڑنے لگا۔شان ایزدی کہ میرے چا صاحب میرے پیچھے تھے اور تین نو جوانوں نے میرا راستہ روک رکھا تھا کہ ایک چوک کی طرف دوسرا ہمارے ڈیرہ کو آنے والی گلی میں اور تیسرا بالکل میرے سامنے تھا گویا میں چاروں طرف سے ایسا گھرا ہوا تھا کہ بیچ نکلنا ناممکن تھا۔مگر قربان