مردانِ خدا — Page 51
مردان خدا ۵۱ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی میرے پھر قادیان آجانے کی اطلاع کے ساتھ بہت کچھ سخت ست لکھا اور بے حد غیرت دلائی۔جس پر والد صاحب نے اب اس معاملہ کو برادری میں پیش کر کے قوم سے مدد مانگی اور پہلے جن امور کو وہ غیرت وحمیت کے خیال سے ظاہر کرنا بھی پسند نہ کرتے تھے اب علی الاعلان کھول کر سنا دینے پر مجبور ہو گئے جس سے برادری کے بعض اکابر نے ان کو امداد دینے کا وعدہ کیا اور والد صاحب کو پھر قادیان پہنچ کر قادیان کے ان خاص لوگوں کو اپنی امداد کیلئے تیار کرنے اور ان سے مشورہ کرنے کو بھیجا۔چنانچہ والد صاحب کا یہ سفر نہایت خفیہ اور صیغہ راز میں ہوا اور وہ اپنے خیال میں اس مرتبہ پہلے سے بھی زیادہ مطمئن ، خوش اور اپنی کامیابی کے یقین کے ساتھ لوٹے۔قادیان کے ان بامذاق لوگوں نے نہ صرف امکان بھر ان کو مدد دینے کے وعدے کئے بلکہ ان کو ایسے مشورے دئے۔ایسے طریق بتائے کہ جن کی بنا پر والد صاحب اپنی واپسی کو کامیاب واپسی یقین کرتے ہوئے خوش و خرم چلے گئے اور اس طرح میرے واسطے تعزیر کے جو خیالات انہوں نے ابھی سے سوچنے شروع فرما دئیے ان کا ذکر گھر میں کبھی والدہ سے بے ساختہ ہو گیا تو والدہ محترمہ مارے مامتا کے اس خیال ہی سے تڑپ اُٹھتیں اور والد صاحب محترم کو ایسے خیالات اور ارادوں سے مقدور بھر روکنے کی کوشش فرما تیں۔مگر والد صاحب اپنے ننگ و ناموس کے خیال اور غیرت وحمیت کے جذبہ کے ماتحت اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے پر اصرار فرماتے رہے۔چچا کی ناکام کوشش ایک روز خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ شیخ عبدالعزیز صاحب۔۔۔۔۔اپنا قرآن شریف بغل میں دبائے میرے پاس آئے جہاں میں تلاوت کر رہا تھا اور مجھ سے اصرار کیا اور کہا کہ چلو آج بڑی ( بیت الذکر ) میں چل کر قرآن شریف پڑھیں۔میں چونکہ ان کے ساتھ ہی رہتا سہتا تھا۔ان کے تقاضا کو رد نہ کر سکا اور ان کے ساتھ ( بیت ) اقصیٰ کو اپنا قرآن