مردانِ خدا — Page 47
مردان خدا ۴۷ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔”میرے والدین دن رات اسی فکر میں غلطان رہتے تھے کہ کسی طرح سے میرے دل سے درختِ ایمان کو کھود باہر پھینکیں اور قادیان والوں کی یاد میرے دل سے محو کر دیں۔جس کیلئے وہ نت نئے سامان اور ارادہ سے کھڑے ہوا کرتے تھے اور ایک ہتھیار کو غیر موثر اور بیکار پا کر دوسرے کا استعمال شروع کر دیتے تھے۔اب انہوں نے بہت ہی سوچ بچار کے بعد مجھے اپنے کام میں معاون بنا کر بے حد مصروف کر کے میری تو جہات کو دوسری طرف لگا دینے کا فیصلہ کیا اور اپنی کمزوری ، ہم وغم اور کثرت کار کے تذکرے میرے کانوں میں ڈال کر مجھے فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کام میں مدد دیا کروں۔چنانچہ میں والد صاحب کے ساتھ گشت پر جانے لگا۔گرداوری اور پیمائش کے علاوہ اصول وارہ بندی اور زمیندار و حکام سے میل ملاقات کے فرائض کی انجام دہی میں لگا رہا اور تھوڑے ہی دن کے بعد والد صاحب کو میں نے قریباً فارغ کر دیا۔تنہا کام چلانے کے قابل ہو گیا اور چونکہ اس میں مجھے گونہ آزادی حاصل تھی۔میں اپنے دینی فرائض کی تکمیل کے واسطے کافی موقعہ پاتا تھا۔میں نے اس کام میں زیادہ ہوشیاری و محنت اور انہماک و شغف کا ثبوت دیا۔جس سے والد صاحب بہت خوش اور متاثر ہوئے اور میری قابلیت و واقفیت کا خود امتحان کرنے کے بعد اپنے ایگزیکٹو انجنیر بہادر کے روبرو پیش کر کے میرا امتحان دلا دیا جس میں میں کامیاب نکلا۔و کام میں پڑ جانے اور اس کے ذریعہ سے اصل مقصد کے حصول میں آزادی سہولت میسر آجانے سے میری دلچسپی بڑھنے لگی اور میں اس ذوق سے کام کرنے لگا کہ اس میں رات دن اور گرمی سردی کا احساس بھی مجھے نہ رہتا اور جب کام سے واپس گھر پہنچتا والدین اور بھائی بہن مجھے ہاتھوں ہاتھ لیتے اور آنکھوں پر بٹھاتے اور خلاف معمول میری