مردانِ خدا

by Other Authors

Page 44 of 97

مردانِ خدا — Page 44

مردان خدا ۴۴ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی میں مطب میں بیٹھا کتاب ست بچن کی مسل برداری کر رہا تھا کہ ایک بچہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ایک رقعہ لایا اور زبانی یہ پیغام دیا کہ اپنے والد کے دستخطوں سے اس مضمون کی ایک نقل کروا کر ہمیں بھیج دو اور تم اپنے والد صاحب کے ساتھ چلے جاؤ“۔بچے کے منہ سے زبانی پیغام کے الفاظ نکلے اور میرے دل و ماغ میں بیٹھے۔مگر ان الفاظ کا مطلب نہ سمجھ سکا۔دوبارہ اور سہ بارہ پوچھا مگر بچے نے الفاظ ایسے رٹے ہوئے تھے کہ تینوں مرتبہ وہی الفاظ اسی ترتیب سے دہراتا رہا۔آخر میں نے حضور کا وہ فرمان کھولا پڑھا اور حقیقت مجھ پر آشکارا ہوئی۔فرمان کا خلاصہ مطلب میرے اپنے الفاظ میں حسب ذیل تھا:۔میں فلاں ابن فلاں جو کہ میاں عبدالرحمن سابق ہریش چندر کا والد ہوں۔باقرار صالح پر میشور کے نام کی قسم اٹھا کر جو کہ میرا پیدا کرنے والا ہے اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امر کا پختہ اقرار اور پکا وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے لڑکے عبدالرحمن سابق ہریش چندر کو دو ہفتہ کے لئے اپنے ساتھ وطن کو لے جاتا ہوں تا کہ اس کی غمزدہ والدہ اور ننھے ننھے بھائی بہنوں کو جو اس کی جدائی کے صدمہ سے بے قرار اور جان بلب ہیں ملا دوں۔میں پر ماتما کے نام سے یہ بھی پیمان کرتا ہوں کہ عزیز کو راستہ میں یا گھر لے جا کر کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا اور دو ہفتہ کے بعد حسب وعدہ صحیح و سلامت قادیان واپس پہنچا دوں گا۔‘ ( دستخط ) (مہتہ گوراند تهیل موہن بقلم خود ) میں نے اس مضمون کو پڑھا اور بار بار پڑھا۔حضرت اقدس کے پہلے فیصلہ پر میں خوش تھا۔مگر اب مجھ پر اداسی اور پژمردگی چھا گئی اور دل میں طرح طرح کے وساوس پیدا ہونے لگے۔جی میں آیا کہ قبل اس کے کہ والد صاحب واپس آویں۔اور اس فیصلہ کا ان کو