مردانِ خدا

by Other Authors

Page 39 of 97

مردانِ خدا — Page 39

مردان خدا ۳۹ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی تھی راستہ خوفناک تھا۔چوروں کا خطرہ اور پانی کی قلت تھی۔خدا خدا کر کے (اگلے دن ) شام سے پہلے ہی پہلے بلکہ عصر کے وقت ہم لوگ گوگیرہ کی بستی میں پہنچ گئے۔جہاں سے یکے پر سوار ہو کر ریلوے اسٹیشن کو روانہ ہو گیا۔رات اسٹیشن پر ہی گزار کر ) میں نے چھانگا مانگا کا ٹکٹ خرید لیا اور گاڑی میں سوار ہو کر خدا کی طرف جھک گیا کیونکہ ہر ضرورت اور حاجت میں اسی کو سچا دستگیر اور راہبر یقین کرتا تھا۔چھانگا مانگا کا سٹیشن آیا میں گاڑی سے اُترا۔ایک یکے میں سوار ہو کر چونیاں کو روانہ ہوا اور چونیاں پہنچ کر چونگی خانہ کے متصل یکہ سے اتر ہی رہا تھا کہ میرے کان میں یہ آواز آئی۔بھائی جی خوب آئے۔سید بشیر حیدر یہیں ہیں۔۔۔خدائے بزرگ نے جس طرح خود ہی مجھ سے پندرہ روزہ عہد کرایا تھا ویسے ہی اس پاک ذات نے اس کے ایفا کیلئے بالکل عجیب در عجیب اور خاص الخاص سامان بھی میسر فرمائے۔۔۔میں سید بشیر حیدر صاحب سے ملا اور دوسرے بچھڑے ہوئے دوستوں سے بھی ملاقات کی۔دو یا تین روز کے بعد سید بشیر حیدر صاحب سیالکوٹ چلے گئے اور میں ایک دو روز کیلئے چونیاں ٹھہرا۔(حضرت بھائی صاحب کچھ عرصہ مختلف مقامات اور شہروں میں تلاش روزگار کے سلسلہ میں گھومنے پھرنے کے بعد سیالکوٹ پہنچے ) سیالکوٹ پہنچ کر سید بشیر حیدر صاحب کی تلاش کی جو ان دنوں شبہ سکے زیاں کی جمعہ مسجد کے بالمقابل ایک موروثی بالا خانے میں قیام پذیر تھے۔میں بالا خانے کی بیٹھک میں ٹھہر گیا جو مردانہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔غرض اس طرح اس بالا خانے پر مجھے سیدنا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الف الف الصلوۃ والسلام کا نام پہنچ گیا اور حضور کا کلام بھی مجھے میسر آ گیا جس کو میں نے شوق سے پڑھا اور وہ میرے دل و جان میں رچ گیا۔سید نا صحیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام معجز بیان پڑھنے کے بعد میرے دل میں ایک نیا نور معرفت اور عرفان پیدا ہو گیا۔ابھی تک مجھے نماز نہ آتی تھی مگر اب میں نے سبقاً سبقاً دو تین روز میں نماز یاد کر لی اور با قاعدہ نماز پڑھنا بھی شروع کر دیا۔