مردانِ خدا

by Other Authors

Page 33 of 97

مردانِ خدا — Page 33

مردان خدا ۳۳ حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری گیا۔لوگ آپ کو کھلے بندوں گالی گلوچ دیتے۔ایسے کٹھن مرحلہ پر مولانا صاحب آستانہ الہی پر جھکنے اور تہجد میں گریہ وزاری میں مصروف ہونے لگے اور خدا تعالیٰ نے آپ پر رؤیا و کشوف کا دروازہ کھول دیا۔اور یہ امر آپ کے لئے بالکل نیا تھا۔اس طرح آپ کے لئے تسلی کے سامان ہونے لگے۔۔سواب آپ کے ایمان و عرفان میں ترقی ہونے لگی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق و وفا بھی بڑھنے لگا اور آپ دیوانہ وار ( دعوت الی اللہ ) میں لگ گئے۔جس پر آپ کے ماموں نے جو خسر بھی تھے۔آپ کو گھر سے نکل جانے پر مجبور کیا اور پولیس سے اس بارہ میں استمداد کی بھی دھمکی دی۔اس لئے آپ موضع بقا پور چلے آئے۔یہاں اپنی زمینداری کے باعث مقاطعہ تو نہ ہوا لیکن مخالفت پورے زور سے رہی عوام کے علاوہ آپ کے والدین اور چھوٹا بھائی بھی زمرہ مخالفین میں شامل تھے۔البتہ بڑے بھائی مخالف نہ ہوئے۔ایک روز آپ کی والدہ نے آپ کے والد سے کہا کہ آپ میرے بیٹے کو کیوں برا کہتے ہیں؟ وہ پہلے سے زیادہ نمازی ہے۔والد صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب کو جن کا دعویٰ مہدی ہونے کا ہے مان لیا ہے۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ امام مہدی کے معنی ہدایت یافتہ لوگوں کے امام کے ہیں۔ان کے ماننے سے میرے بیٹے کو زیادہ ہدایت نصیب ہو گئی ہے جس کا ثبوت اس کے عمل سے ظاہر ہے اور مولوی صاحب کو اپنی بیعت کا خط لکھنے کو کہا۔آپ (دعوت الی اللہ ) میں مصروف رہے اور ایک سال کے اندر والد صاحب، چھوٹا بھائی اور دونوں بھاوجوں نے بھی بیعت کر لی اور بڑے بھائی صاحب نے خلافت احمدیہ اولی میں بیعت کر لی۔۱۹۰۵ ء تا ۱۹۰۸ء تین سال بقا پور میں ہر طرح کے مالی اور بدنی ابتلاؤں کے گزرے کئی کئی دن فاقہ کشی تک نوبت پہنچی۔( رفقاء احمد : جلده ا: ص: ۲۱۵)