مردانِ خدا

by Other Authors

Page 24 of 97

مردانِ خدا — Page 24

مردان خدا آپ نے فرمایا: ۲۴ حضرت نواب محمد علی خان صاحب ” جو میں نے دیکھا ہے وہ آپ کو نظر نہیں آسکتا۔اتنا آپ سن لیں کہ اگر شریف احمد ٹھیکرا لے کر گلیوں میں بھیک مانگ رہا ہو تا تب بھی شریف احمد کو ہی بیٹی دیتا“۔( رفقاء احمد : جلد دوم: صفحه ۲۵۶) اس پر آپ کے بھائی ناراض ہو کر چلے گئے۔یہ نکاح نومبر ۱۹۰۶ء میں ہوا۔رخصتی و مئی ۱۹۰۹ ء کو ہوئی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی قربانی کا ایک موقع اس وقت پیدا ہوا جب کہ آپ کے بچوں کے رشتوں کا مرحلہ آیا۔نواب موسیٰ خاں صاحب جو کہ نواب مزمل اللہ خان صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ یونیورسٹی کے رشتہ داروں میں سے تھے اور شیروانی خاندان میں سے ہی تھے اور علی گڑھ جا کر آباد ہو گئے تھے۔انہوں نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے بچوں میاں عبدالرحمن خان صاحب اور میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کے رشتوں کیلئے خواہش کا اظہار کیا۔یہ احمدی نہ تھے۔نواب محمد علی خان صاحب نے محض احمدیت کی وجہ سے ان رشتوں سے انکار کر دیا۔دیوانگی عشق کا ہے ( رفقاء احمد : جلد دوم: صفحه ۲۷ ) نشاں سمجھے کوئی اس کو جز عاشقاں