مردانِ خدا

by Other Authors

Page 23 of 97

مردانِ خدا — Page 23

مردان خدا ۲۳ حضرت نواب محمد علی خان صاحب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر نواب صاحب فونوگراف قادیان لائے اور ۱۵ نومبر ۱۹۰۱ ء کو نماز عصر کے بعد فونوگراف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو سنائے اور دو سلنڈر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بھرے۔۲۰ نومبر کو لالہ شرمیت آریہ کی درخواست پر غیر مسلموں کو بھی فونوگراف کے ذریعہ نظمیں سنائی گئیں۔اس موقع پر خاص طور پر حضور نے نظم ”آواز آرہی ہے یہ فونوگراف سے تحریر فرمائی تھی۔حضرت نواب صاحب کو ۱۹۰۰ء سے ۱۹۱۸ء تک مختلف عہدوں پر خدمات سلسلہ کا موقع ملا۔۱۹۰۶ء میں صدرانجمن احمدیہ کا قیام ہوا۔اس کے آپ بھی ممبر تھے۔آپ کے بیٹے نواب عبدالرحیم خان صاحب سخت بیمار ہوئے تو حضرت اقدس علیہ السلام کی دعائے خاص سے شفا ملی۔کڑا امتحان۔اعلیٰ درجہ کا ایمان حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی صاحبزادی محترمہ زینب بیگم صاحبہ کے نکاح کی تجویز قرار پائی تو یہ موقع نواب صاحب کیلئے بڑے کڑے امتحان کا تھا۔آپ کے تمام عزیز رشتہ دار اس رشتہ کے مخالف تھے۔انہوں نے قادیان آ کر نواب صاحب کو اس کام سے روکا کیونکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ اول تو ظاہری دنیوی مال و دولت کے اعتبار سے یہ امر مشکل ہے اور دوسرے یہ کہ اس طرح سے مالیر کوٹلہ کی جائیداد سے کچھ حصہ دینا پڑیگا۔مگر نواب صاحب نے اس موقع پر نہایت اعلیٰ ایمان کا مظاہرہ کیا۔آپ نے انہیں کہا کہ جب میں ایک شخص کو مسیح موعود مان چکا ہوں تو میں ان کو رشتہ دینے سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔گویا اس وقت آپ بزبان حال اس شعر کے مصداق ہو گئے۔جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا