مردانِ خدا — Page 22
مردان خدا ۲۲ حضرت نواب محمد علی خان صاحب راضی ہو ) نے نکاح پڑھایا اور ان کی وفات ۱۹۰۶ ء میں ہوگئی۔اس کے بعد آپ کا نکاح مورخه ۱۷ فروری ۱۹۰۸ ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ہوا۔حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) نے نکاح پڑھا۔رخصتی ۱۴ مارچ ۱۹۰۹ ء کو ہوئی۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ آپ کی بیٹی صاحبزادی زینب بیگم بیاہی آپ کے بیٹے نواب محمدعبداللہ خان صاحب کا نکاح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دخت کرام حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے ساتھ ۷ جون ۱۹۱۵ء بروز دوشنبہ کو بیت اقصی قادیان میں حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے پڑھا۔حضرت صاحبزادی صاحبہ کی رخصتی مورخ ۲۲ فروری ۱۹۱۷ ء کو ہوئی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب ایثار و قربانی کے پیکر، شریعت کے پابند ، عاشق خدا، عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عاشق مسیح موعود علیہ السلام تھے۔بہت مخلص، غریب پرور، نرم خو، ہر ایک کیلئے ہمدرد، دعا گو، صاحب کشف والہام بزرگ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا لقب ”حجتہ اللہ بتایا گیا۔سلسلہ احمدیہ کے پہلے باتنخواہ مبلغ شیخ غلام احمد صاحب تھے جن کا مکمل خرچ حضرت نواب صاحب نے برداشت کیا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ انجمن کی مالی حالت بہت کمزور تھی اور وہ اتنخواہ مبلغ نہ رکھ سکتی تھی۔ارتداد ملکانہ کے ایام میں آپ اس علاقہ میں پیرانہ سالی کے باوجود تشریف لے گئے اور تحریک شدھی کے خاتمے کے سلسلہ میں خوب محنت کی اور سارا خرچ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ساتھیوں کا بھی آپ ہی برداشت کرتے تھے۔مالی قربانیوں میں آپ کا مقام بہت بلند تھا۔ہر موقع پر آپ نے مالی قربانی پیش کی۔