مردانِ خدا — Page 9
مردان خدا حضرت سید عبداللطیف صاحب ' تب قاضیوں اور فقیہوں نے شور مچایا کہ کافر ہے۔کافر ہے۔اس کو جلد سنگسار کرو۔اُس وقت امیر اور اس کا بھائی نصر اللہ خاں اور قاضی اور عبدالاحد کمیدان یہ لوگ سوار تھے اور باقی تمام لوگ پیادہ تھے۔جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بار بار کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں۔تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلا دیں۔تب امیر نے جواب دیا کہ شریعت کے تم ہی بادشاہ ہو اور تمہارا ہی فتویٰ ہے۔اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔تب قاضی نے گھوڑے سے اتر کر ایک پتھر چلایا۔جس پتھر سے شہید مرحوم کو زخم کاری لگا اور گردن جھک گئی پھر بعد اس کے بدقسمت امیر نے اپنے ہاتھ سے پتھر چلایا۔پھر کیا تھا اس کی پیروی سے ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے اور کوئی حاضرین میں سے ایسا نہ تھا جس نے اس شہید مرحوم کی طرف پتھر نہ پھینکا ہو۔یہاں تک کہ کثرت پتھروں سے شہید مرحوم کے سر پر ایک کوٹھہ پتھروں کا جمع ہو گیا۔بیان کیا گیا ہے کہ یظلم یعنی سنگسار کرنا ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء کو وقوع میں آیا“۔(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد نمبر ۲۰: صفحه : ۵۴تا۵۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس واقعہ کا فارسی نظم میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آں جواں مرد و حبیب جو ہر خود کرد آخر کردگار آشکار ہیں کہ ایس عبداللطیف پاک مرد چوں پئے حق خویشتن برباد کرد جاں بصدق آں دلستان را داده است تا کنوں در سنگها افتاده است