مردانِ خدا — Page 8
مردان خدا حضرت سید عبد اللطیف صاحب نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کاغذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے۔تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے اور اُس رسی سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل یعنی سنگسار کرنے کی جگہ تک پہنچایا جائے۔چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اُس میں رسی ڈالی گئی۔تب اُس رہی کے ذریعہ سے شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے ہنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے گئے اور امیر اپنے تمام مصاحبوں کے ساتھ اور مع قاضیوں، مفتیوں اور دیگر اہلکاروں کے یہ دردناک نظارہ دیکھتا ہوا مقتل تک پہنچا اور شہر کی ہزار ہامخلوق جن کا شمار کرنا مشکل ہے اس تماشا کے دیکھنے کیلئے گئی۔جب مقتل پر پہنچے تو شاہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اُس حالت میں جب کہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے امیران کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچالیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کر۔تب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے اور جان کی کیا حقیقت ہے اور عیال و اطفال کیا چیز ہیں جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں۔مجھ سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا“۔دے چکے دل اب تن خاکی رہا ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا