مردانِ خدا

by Other Authors

Page 7 of 97

مردانِ خدا — Page 7

مردان خدا حضرت سید عبد اللطیف صاحب ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔۔۔مباحثہ تحریری تھا۔صرف تحریر ہوتی تھی اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی اس لئے اس مباحثہ کا کچھ حال معلوم نہیں ہوا۔سات بجے صبح سے تین بجے سہ پہر تک مباحثہ جاری رہا۔پھر جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔پھر بعد اس کے اخوندزادہ حضرت شہید مرحوم اسی طرح پابز نجیر ہونیکی حالت میں قید خانہ میں بھیجے گئے اور اس جگہ یہ بات بیان کرنے سے رہ گئی ہے کہ جب شاہزادہ مرحوم کی اُن بدقسمت مولویوں سے بحث ہورہی تھی تب آٹھ آدمی بر ہنہ تلوار میں لے کر شہید مرحوم کے سر پر کھڑے تھے۔پھر بعد اس کے وہ فتویٰ کفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا اور یہ چالا کی کی گئی کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں عمداً نہ بھیجے گئے اور نہ عوام پر ان کا مضمون ظاہر کیا گیا۔یہ صاف اس بات کی دلیل تھی کہ مخالف مولوی شہید مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رڈ نہ کر سکے مگر افسوس امیر پر کہ اس نے کفر کے فتویٰ پر ہی حکم لگا دیا اور مباحثہ کے کاغذات طلب نہ کئے۔۔۔بعد اس کے کہ فتویٰ کفر لگا کر شہید مرحوم قید خانہ میں بھیجا گیا صبح روز دوشنبہ کو شہید موصوف کو سلام خانه یعنی خاص مکان در بار امیر صاحب میں بلایا گیا۔اس وقت بھی بڑا مجمع تھا۔پھر امیر صاحب جب اپنے اجلاس پر آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ صاحب مرحوم کو بلایا اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے۔اب کہو کہ کیا تو بہ کرو گے یا سزا پاؤ گے تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیا اور کہا کہ میں حق سے تو یہ نہیں کر سکتا۔کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں۔یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔تب امیر نے دوبارہ تو بہ کیلئے کہا اور توبہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا۔مگر شہید موصوف نے بڑے زور سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔۔۔۔۔جب شہید مرحوم