مردانِ خدا

by Other Authors

Page 4 of 97

مردانِ خدا — Page 4

مردان خدا حضرت سید عبد اللطیف صاحب قادیان سے روانگی۔آخری ملاقات ۱۹۰۳ء کے شروع میں جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت لے کر قادیان سے روانہ ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور کچھ اور لوگ بٹالہ کی نہر تک جو کہ قادیان سے قریباً ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر ہے شہزادہ صاحب کو الوداع کہنے تشریف لائے۔جب شہزادہ صاحب کے رخصت ہونے کا وقت آیا تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑے اور دونوں ہاتھوں سے حضور کے پاؤں پکڑ لئے اور عرض کیا میرے لئے دعا کریں۔آپ نے فرمایا اچھا دعا کرتا ہوں میرے پاؤں چھوڑ دیں۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ یہ آپ کی آخری ملاقات ہے۔بہر حال آپ قادیان سے روانہ ہو کر لاہور اور لاہور سے بنوں اور بنوں سے خوست اپنے گاؤں سید گاہ پہنچے۔کابل جانے سے پہلے آپ نے اپنے شاگر دمحمد حسین کو جو اُس وقت افغانستان کی فوجوں کا سب سے بڑا افسر تھا خط لکھا کہ آپ بادشاہ سے میرے کابل آنے کی اجازت لیکر مجھے لکھیں۔یہ خط آپ کے ایک دشمن نصر اللہ خان جو کہ نائب امیر اور امیر کا بھائی بھی تھا اس کے ہاتھ لگا اس نے یہ خط لیکر بادشاہ کے پاس شکایت کر دی۔علاوہ ازیں شہزادہ صاحب نے دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداران کو بھی خطوط لکھے تھے وہ خطوط بھی امیر کے پاس بھجوا دئیے گئے۔بادشاہ نے بڑے بڑے مولویوں کو بلایا اور ان سے رائے لی تو انہوں نے کہا کہ جس شخص کی اس نے بیعت کی ہے وہ تو کافر اور مرتد ہے تب بادشاہ کی طرف سے خوست کے گورنر کو حکم بھجوایا گیا کہ شہزادہ صاحب کو گرفتار کر کے پچاس سواروں کے ساتھ یہاں بھیج دو۔گرفتاری اور قید و بند اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے عجیب معاملہ ہوتا ہے۔ان سرکاری کارندوں کے پہنچنے۔