مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 59
۵۹ مقام خاتم میں مؤثر وجود قرار دیا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے وصف سے بالذات موصوف قرار دیا ہے۔اور سوا آپ کے اور تمام نبیوں کو موصوف بوصف نبوت بالغرض لکھا ہے یعنی اور سب انبیاء کی نبوت کو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا فیض قرار دیا ہے اور آپ کی نبوت کو کسی اور نبی کا فیض قرار نہیں دیا۔مفردات کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اثر حاصل اور منع اور بندش اور آخر کو پہنچنا ختم کے مجازی معنی ہیں جس پر مفردات کے الفاظ یتجوز بذلک تارةً روشن دلیل ہیں۔تفسیر بیضادی کے حاشیہ پر بھی لکھا ہے:۔فَإِطْلَاقُ الْخَيْمِ عَلَى الْبُلُوْعَ وَالْإِسْتِيْثَاقِ مَعْنَى مَجَازِيٌّ یعنی لفظ ختم کا آخر کو پہنچنے اور بند کرنے کے معنوں میں استعمال مجازی معنی ہیں۔پس مطلق آخری نبی خاتم النبیین کے حقیقی معنی نہیں۔حقیقی معنی اس کے تو خاتمیت مرتبی ہی ہیں۔یعنی ایسا نبی جو تمام انبیاء کے نبوت پانے میں مؤثر وجود ہے خاتمیت مرتبی خاتم النبیین کے حقیقی اور مقدم معنی ہیں جو آئیندہ نبی پیدا ہو سکنے پر دلالت کرتے ہیں۔اور خاتمیت زمانی علی الاطلاق (یعنی مطلق آخری نبی ہونا) ان حقیقی معنوں کے ساتھ مجازی معنی ہونے اور تناقض رکھنے کی وجہ سے جمع نہیں ہوسکتی۔کیونکہ ان معنوں سے آئیندہ خاتمیت مرتبی کے وصف کا انقطاع لازم آتا ہے۔پس خاتمیت زمانی صرف ان معنوں میں خاتمیت مرتبی کے ساتھ بطور لازم المعنی جمع ہوسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہیں اور آپ کے بعد آپ کی خاتمیت مرتبی کے فیض سے آئیندہ اتی نبی پیدا ہوسکتا ہے۔پس مولوی خالد محمود صاحب! آپ ضد کو چھوڑ کر خدارا غور کریں۔