مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 245 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 245

۲۴۵ مقام خاتم کہ میری مُرادنبوت سے وہ نہیں جو صحفِ اولیٰ میں لی جاتی ہے۔بلکہ میری نبوت ایک ایسا درجہ ہے جو صرف نبی کریم خیر الوریٰ صلے اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔مولوی عبدالحی صاحب کا عقیدہ مولوی محمد قاسم صاحب کے ہمعصر مولوی عبد الحی صاحب حنفی فرنگی محل تحریر فرماتے ہیں:۔بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجر دکسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ منع ہے۔“ دافع الوساوس فی اثر ابن عباس ایڈیشن جدید صفحه ۱۶) اس کے بعد انہوں نے اپنی تائید میں ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کا یہ قول پیش کیا ہے:۔إِذَا الْمَعْنِى أَنَّهُ لَا يَأْتِي بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کے دین کو منسوخ کرے۔گوانہوں نے مُلا علی قاری کا اگلا فقرہ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ اور وہ آپ کی اُمت میں سے نہ ہو درج نہیں کیا۔اسی بات کی تائید میں انہوں نے آگے علامہ سبکی کا قول بھی پیش کیا ہے۔علامہ سبکی نے شاید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصالتاً آمد کا اجتہا در کھنے کی وجہ سے یہ لکھ دیا ہے کہ لَا تَنْشَأُ النُّبُوَّةُ کہ نئی بات پیدا نہیں ہوگی۔یا ممکن ہے اُن کا یہ خیال ہو کہ امتی کی