مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 224 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 224

۲۲۴ محمد یہ یعنی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔اور دوسری شرط یہ ہے کہ امت محمدیہ سے باہر کوئی نبی نہیں آسکتا۔مقام خاتم انا پس ہندوؤں اور عیسائیوں اور تمام غیر مسلموں میں کوئی نبی نہیں آسکتا۔اور امت میں اگر کوئی نبی پیدا ہو اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور امتی ہو تو اس کی نبوت آیت خاتم النبیین کے منافی نہ ہوگی۔مولوی خالد محمود صاحب نے امام علی القاری علیہ الرحمۃ کے متعلق ختم نبوت کا عقیدہ بیان کرنے کے لئے اُن کے کچھ اقوال درج کئے ہیں جن کی اس جگہ تشریح کرنا ضروری ہے تا کہ کوئی شخص مولوی خالد محمود صاحب کے مغالطہ میں نہ آسکے۔پہلا قول " دَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْإِجْمَاعِ۔ملحقات شرح فقہ اکبر صفحه ۲۵ عقیدۃ الامۃ صفحہ۷۲) ترجمہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا اجماع کے ساتھ کفر ہے۔یہ ترجمہ کرنے کے بعد مولوی خالد محمود صاحب لکھتے ہیں:۔ظاہر ہے کہ یہ اجماع مسیلمہ کذاب کے بارہ میں حضرت صدیق اکبر کے عہد خلافت میں منعقد ہو ا تھا۔حالانکہ مسلیمہ کذاب نے مستقل نبوت کا دعوی نہیں کیا تھا۔نمازیں بھی پڑھتا تھا اور اپنی اذان میں حضور کی نبوت