مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 225
۲۲۵ کا برابر اعلان بھی کرتا تھا۔“ ( عقیدۃ الامۃ صفحہ ۷۲ ) مولوی خالد محمود صاحب کا یہ بیان تاریخ کی روشنی میں سراسر باطل ہے کہ مسیلمہ کذاب نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔کیونکہ مسیلمہ کذاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے بالمقابل تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:۔اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا اور شراب اور زنا کو حلال قرار دیا۔فریضہ نماز کو ساقط کر دیا۔قرآن مجید کے مقابلہ میں سُورتیں لکھیں۔پس شریر اور مفسد لوگوں کا گروہ اُس کے تابع ہو گیا۔“ (حج الکرامه صفحه ۳۳۴ ترجمه از فارسی ) پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اگر مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے کفر پر کوئی اجماع ہوا ہے تو وہ اجماع تشریعی نبوت کے باطل ہونے کے متعلق ہی ہوا ہے ورنہ مسیح موعود کا امتی نبی ہونا تو خود حضرت امام علی القاری علیہ الرحمۃ کومسلم ہے۔انہوں نے صاف لکھا ہے:۔" لَا مُنَافَاةَ بَيْنَ أَنْ يَكُوْنَ نَبِيًّا وَأَنْ يَكُوْنَ مُتَابِعًا لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيَانِ أَحْكَـامِ شَرِيْعَتِهِ وَاتْقَانِ طَرِيْقَتِهِ وَلَوْ بِالْوَحْيِ إِلَيْهِ۔“ ( مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۵۶۴) یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے نبی ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم