مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 207
وو (rz) هذَا التَّنْزِيْلُ هُوَ النُّبُوَّةُ الْعَامَّةُ لَا نُبُوَّةُ التَّشْرِيْعِ۔“ مقام خاتم ان فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۲۴۲ باب معرفة الاستقامة ) یعنی ملائکہ کا مومنوں کے استقامت دکھانے پر نازل ہونا نبوت عامہ ہے نہ کہ تشریعی نبوت۔خالد محمود صاحب نے حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کا یہ قول پیش کیا ہے:۔إِعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ سَدَّ بَابَ الرِّسَالَةِ عَنْ كُلَّ مَخْلُوْقٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔یعنی جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسالت کا دروازہ بند کر دیا ہے۔شیخ اکبر کے اس قول میں ان کے مندرجہ بالا اقوال کی روشنی میں تشریعی رسالت کے دروازے کا بند ہونا ہی مذکور ہے۔کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں :۔" فَقَطَعْنَا أَنَّ فِيْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَنْ لَحَقَتْ دَرَجَتُهُ دَرَجَةَ الْأَنْبِيَاءِ فِي النُّبُوَّةِ لَا فِي التَّشْرِيْعِ۔“ فتوحات مکیہ جلد اصفحه ۵۷۰،۵۶۹) ترجمہ : ہم نے قطعی طور پر جان لیا ہے کہ اس امت میں ایسے شخص بھی ہیں جن کا درجہ نبوت میں انبیاء کے درجہ سے مل گیا ہے نہ کہ نئی شریعت لانے میں۔