مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 189
(IAA) ١٨٩ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا ) کے متعلق لکھا ہے:۔مقام خاتم است " وَ يُقَوِّيْهِ حَدِيْتُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا إِتِّبَاعِي۔کہ یہ حدیث اسے تقویت دے رہی ہے۔علامہ شوکانی نے بھی تو وہی کے اس خیال کو رڈ کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں اور لکھا ہے:۔هُوَ عَجِيْبٌ مِنَ النَّوَوِى مَعَ وُرُودِهِ عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنَ " الصَّحَابَةِ وَكَأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ لَهُ تَاوِيلُهُ “ (الفوائد المجموعة صفحا۱۴) یعنی نووی کا اس حدیث سے انکار قابل تعجب ہے باوجود یکہ اس حدیث کو تین صحابہ نے روایت کیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نووی پر اس کے صحیح معنی نہیں کھلے۔ہمارا استید لال حدیث ہذا کی صحت ثابت کرنے کے بعد اب ہم بتاتے ہیں کہ اس حدیث سے ہمارا استدلال یہ ہے کہ آیت خاتم النبیین شہھ میں نازل ہوئی تھی۔اور صاحبزادہ ابراہیم کی شہ ھ میں وفات ہوئی۔لہذا آیت خاتم النبیین کے نزول کے قریبا پانچ سال بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور صدیق نبی ہوتا۔اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک صاحبزادہ ابراہیم کا بالفعل نبی نہ ہونا اس کے وفات پا جانے کی وجہ سے ہے نہ کہ آیت خاتم النبیین کے