مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 185
(۱۸۵) مقام خاتم السنة موسیٰ علیہ السّلام نے عرض کیا کہ مجھ کو اس اُمت کا نبی بنادیجئے۔ارشادِ باری ہوا۔اس اُمت کا نبی اس اُمت میں سے ہوگا۔موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ مجھ کو اُن ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اُمت میں سے بنا دیجئے۔ارشاد باری ہوا۔تم ( اُن سے) پہلے ہو گئے ہو وہ پیچھے ہوں گے۔البتہ تم کو اور اُن کو دارالجلال (جنت ) میں اکٹھا کر دوں گا۔نوٹ:۔یہ حدیث مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے بھی اپنی کتاب نشر الطیب فی ذکر الحبیب صفحہ ۲۶۲ پر درج کی ہے۔اور ” الرحمة المهداة میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔اور تر جمان السیہ میں مولوی بدر عالم صاحب میرٹھی نے بھی یہ حدیث درج کی ہے اس حدیث سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست کو رڈ کر دیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے نبی بنائے جائیں اور رڈ کرنے کی وجہ یہ بتائی نَبِيُّهَا مِنْهَا کہ اس اُمت کا نبی اس امت میں سے ہوگا۔پھر موسیٰ نے امتی بنائے جانے کی درخواست کی تو اُسے بدیں وجہ رد کر دیا گیا کہ چونکہ تم پہلے ہو گئے ہو اور رسُول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پیچھے آنے والے ہیں اس لئے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنی بھی نہیں ہو سکتے۔اس حدیث سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں سے نبی تو آ سکتا ہے۔لیکن کوئی پہلا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی نہیں بن سکتا۔پس خالد محمود صاحب کا یہ خیال کہ حضرت عیسی علیہ السلام اصالتا امتی نبی کی حیثیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئیں گے۔اس حدیث کے سراسر خلاف ہے۔حضرت موسیٰ علیہ