مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 134 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 134

(ir) مقام خاتم السنة نتبيين خود شریعت نے مقرر کر دی ہے نہ کہ انسان خود اپنے اوپر حتمی فرض کرتا ہے کہ میں زکوۃ یا عشر کے طور پر کچھ رقم جسے میں خود مقرر کرتا ہوں سال کے بعد دیا کروں گا۔جو چندہ کہ سلسلہ احمدیہ میں کوئی اپنے نفس پر خود واجب کرے وہ تو صرف نذر کی رقم کی طرح فرض حتمی ہوگا نہ کہ خدا کی طرف سے مقر کردہ زکوۃ و عشر کی طرح۔یہ فرض حتمی جو انسان خود مقرر کرتا ہے یہ تو ایک وعدہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ میں زکوۃ و عشر کے علاوہ جو خدا کی طرف سے فرض ہے اپنی طرف سے خود ایک رقم مقرر کرتا ہوں جو خدمت اسلام میں صرف ہوگی۔مسلمانوں کی ساری انجمنیں اپنے ممبروں پر ایک ضروری چندہ لگا دیتی ہیں جس کی ادئیگی کے بغیر کوئی ان کا ممبر نہیں رہ سکتا۔مگر اس امر کو تو کوئی شخص نئی شریعت قرار نہیں دیتا۔مگر خالد محمود صاحب ہیں کہ سلسلہ احمدیہ کے افراد کے اپنی طرف سے کسی چندہ کی رقم مقرر کر لینے کو ایک نئی شریعت کا حکم قرار دے کر بانٹی سلسلہ احمدیہ کو تشریعی نبوت کا مدعی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔مولوی خالد محمود صاحب کی ایسی کچی باتیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی مصداق ہیں۔۵ - مولوی خالد محمود صاحب حضرت مرزا صاحب کے عقیدہ میں چوتھی تبدیلی ثابت کرنے کے لئے رسالہ ایک غلطی کا ازالہ کی ذیل کی عبارت پیش کی ہے:۔خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مُہر کا توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبیین پر ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نکلی غیریت کے اس کا نام پالیا اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا تو وہ