مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 135 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 135

(iro) مقام خاتم انا بغیر مُہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۶) پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظلق اپنے اصل سے علیحد ہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلمی طور پر محمد ہوں ( صلے اللہ علیہ وسلم ) پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہر حال محمد صلے اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہا۔“ ایک غلطی کا ازالہ بحوالہ تبلیغ رسالت جلد ۱ صفحه ۲۲) خالد محمود صاحب ان حوالہ جات کی بناء پر لکھتے ہیں:۔پھر مرزا صاحب نے عقیدہ ختم نبوت میں چوتھی کروٹ لی اور آیت خاتم النبیین کو اپنے اصل اسلامی معنی پر رکھتے ہوئے کہ واقعی حضور ختمی مرتبت کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اُسے اپنے صاحب شریعت نبی اور رسول کے ساتھ یوں تطبیق دی کہ خود عین محمد اور احمد ہونے کا دعویٰ کر دیا اور مغائرت کے سارے پردے اُٹھا دیئے۔“ ( عقيدة الامته صفحه ۳۱) واضح ہو کہ ان عبارتوں میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو اصل اور اپنے آپ کو ظل قرار دیا ہے۔پس یہ یفی غیریت اور اتحاد ظلتی ہوا۔اور اس سے یہ مراد ہے کہ آپ فنافی الرسول کے اتم درجہ پر پہنچ کر خدا کی طرف سے نبی کہلانے کے مستحق ہوئے۔اور یہ کہ آپ مستقل نبی نہیں بلکہ مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو