مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 75
(۷۵) مقام خاتم الن ترجمہ: منافق آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے اور تُو اُن کا کوئی مددگار نہیں پائے گا مگر جن لوگوں نے تو بہ کر لی اور اصلاح کر لی اور اللہ تعالی کے ذریعہ اپنی حفاظت چاہی اور اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر لیا۔وہ مومنین کے ساتھ ہیں۔( یعنی مومنوں میں سے ہیں) فَأُولئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ جملہ اسمیہ ہے۔اور اس سے مراد یہ ہے کہ تو بہ کرنے والے اور خدا تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کر لینے والے اور اطاعت کو خدا تعالیٰ کے لئے خالص کر لینے والے مومنوں کے ساتھ ان معنوں میں ہیں کہ وہ اسی دنیا میں مومنوں کے گروہ کا فرد بن کر مومنوں کا درجہ پانے والے ہیں۔اسی طرح فاولئک مع الذین انعم الله عليهم من النبيين الآیۃ بھی جملہ اسمیہ ہے اور مُراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے اسی دُنیا میں نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین کے چار گروہوں میں سے کسی نہ کسی گروہ کے زمرہ میں ضرور داخل ہو جاتے ہیں۔پس اس آیت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو نبوت کا درجہ بھی مل سکتا ہے۔اور وہ نبیوں کے گروہ میں داخل ہو سکتا ہے۔جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے صدیقوں، شہداء یا صالحین کا درجہ پا کر اُن کے گروہوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔پس اس آیت کریمہ میں خاتم النبیین کی خاتمیت مرتبی ہی کی آئیندہ کے لئے تاثیر بیان ہوئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ خاتمیت مرتبی کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف خاتم النبیین ہی نہیں بلکہ خاتم الصدقین اور خاتم الشہداء اور خاتم الصالحین بھی ہیں۔گویا خاتم الکاملین بھی ہیں۔اور اب آئیندہ کمال نبوت کمال صدیقیت ، کمال شہادت