مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 72
(۷۲) مقام خاتم الله آیات تم پر بیان کریں تو جولوگ تقویٰ اختیار کریں گے اور اپنی اصلاح کر لیں گے اُن پر کوئی خوف نہیں اور وہ غمگین نہیں ہوں گے۔دیکھئے یہ آیت بھی جملہ شرطیہ ہے۔اور اس کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بنی آدم میں نبی کا آنا جائز قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ علامہ بیضاوی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں اِثْيَانُ الرُّسُلِ جَائِزٌ غَيْرُ وَاجِبِ۔کہ رسولوں کا آنا جائز ہے۔واجب نہیں۔(خدا تعالیٰ پر تو کوئی بات واجب نہیں) قرآن کریم میں کئی ایسی آیات موجود ہیں جو ایسے جملات شرطیہ پر مشتمل ہیں جن میں شرط محال نہیں۔بلکہ ممکن امر کو شرط قرار دیا گیا ہے جیسے:۔إِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ (البقره آیت ۲۸۱) کہ اگر قرضدار تنگدست ہو تو اُسے آسانی پانے تک مہلت دینی چاہئیے۔دیکھئے اس جملہ شرطیہ میں قرضدار کا تنگدست ہونا ایک ممکن امر ہے جسے فرض کیا گیا ہے۔اسی طرح آیت کریمہ فَإِنْ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللهِ ( سورة هود آیت (۱۵) یعنی اگر وہ قرآن کے معاملہ میں اس کا جواب نہ لا ئیں تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم کے ساتھ نازل ہوا ہے۔اب دیکھئے۔قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی آیت نہ بنا سکنا محال نہیں بلکہ اس کے برعکس ان کا کوئی آیت بنا کر لانا محال ہے۔اس آیت میں بھی شرط محال نہیں۔نبی کا آنا چونکہ مکن امر تھا اس لئے مولوی محمد قاسم صاحب نے ان عبارتوں میں محال امر کو فرض نہیں کیا۔جب مولوی محمد قاسم صاحب اور تمام علماء دیوبند و بریلی بلکہ تمام ائمہ دین