مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 68 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 68

مقام خاتم النی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف ثبوت بالعرض ہیں۔اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے پر آپ 66 کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں۔“ ( تحذیر الناس صفحه ۴ ) پس در حقیقت علماء بریلی بھی مولانامحمد قاسم کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت مرتبی کو مانتے ہیں۔لیکن اس امر کی ہم پیچھے وضاحت کر چکے ہیں کہ خاتمیت مرتبی کے ساتھ خاتمیت زمانی مطلق آخری نبی کے معنوں میں تو جمع نہیں ہوسکتی ہے بلکہ خاتمیت زمانی خاتمیت مرتبی کے ساتھ انہی معنوں میں جمع ہوسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی اور مستقل نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی تشریعی اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔جب یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے کے قائل ہیں اور حدیث نبوی مسیح موعود کو نبی اللہ قرار دیتی ہے تو پھر یہ لوگ خاتمیت زمانی کو انہی معنوں میں تسلیم کر سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع نبی ہیں اور اس طرح خاتمیت زمانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کے آنے میں مانع نہیں رہتی۔اور خاتمیت مرتبی بھی آئیندہ نبی پیدا ہونے میں مؤثر رہتی ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں معنوں میں خاتم النبیین رہتے ہیں۔مولوی خالد محمود صاحب اور تمام علمائے بریلی ودیو بند حضرت عیسی علیہ السلام کا جو مستقل نبی تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی صورت میں آنا مانتے ہیں۔لہذا وہ حضرت عیسی علیہ السّلام کے وجود میں ایک نئی قسم کی نبوت کے حدوث کے قائل ہیں جس قسم کا کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے ظاہر نہیں ہوا۔پس ہمارے