مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 67 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 67

(12) مقام خاتم انا پھر یہ عالم لکھتا ہے:۔بعض علماء اور اولیاء عظام نے حضور کو سُورج اور باقی انبیاء کو تاروں سے تشبیہہ دی ہے اور یہ لکھا ہے کہ حضور فضل و شرف کے سُورج ہیں۔اس سُورج سے تمام تارے ( انبیاء کرام ) فیض پاتے ہیں۔تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضور اصلی نبی ہیں اور باقی انبیاء عارضی طور پر نبی ہیں۔بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ تمام انبیاء کرام کو جو فضائل و کمال و معجزات حاصل ہوئے وہ سب حضور کے صدقہ اور وسیلہ سے اُن کو ملے ہیں یعنی نبوت اور کمالات کا حضور کے صدقہ اور وسیلہ سے ملنا اور بات ہے۔اور صف نبوت سے دیگر انبیاء کا عارضی طور پر موصوف ہونا اور بات ہے۔“ (رضوان یکم فروری کے صفحہ ۹ کالم اول) اس سے ظاہر ہے کہ مولا نا محمد قاسم صاحب سے بریلوی علماء کی محض نزاع لفظی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بالذات ہونے اور دوسرے انبیاء کی نبوت کے بالعرض ہونے سے مولانامحمد قاسم صاحب کی مراد بھی یہی ہے کہ تمام انبیاء کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ملی ہے۔ان کی مراد بالعرض سے بالواسطہ ہی ہے نہ کہ عارضی۔معترض کا بالعرض کی فلسفیانہ اصطلاح کو عارضی کے معنوں میں لینا محض اس بغض و تعصب کا کرشمہ ہے جو وہ مولانا محمد قاسم صاحب سے رکھتا ہے۔چنانچہ مولانا محمد قاسم علیہ الرحمۃ تحذیر الناس صفحہ ۴ پر بالذات اور بالعرض کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔سو اسی طور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصوّر فرمائیے۔یعنی وو