مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 62
مقام خاتم است 66 ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو تاخر زمانی لازم ہے۔“ کے متعلق لکھتے ہیں :۔” جب یہ کہا جائے کہ بالفرض حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمد یہ میں فرق نہ آئے گا۔یہ عبارت اس لئے قابلِ اعتراض ہے کہ اس سے خاتمیت زمانی تو یقیناً باطل ہو جاتی ہے۔کیونکہ اگر بالفرض حضور کے بعد کوئی نبی پیدا ہوتو یقیناً حضور کی خاتمیت میں فرق آتا ہے اور مولوی قاسم کہتے ہیں کہ فرق نہیں آتا تو اس سے خاتمیت زمانی تو باطل ہوگئی۔اور خاتمیت مرتبی کو خاتمیت زمانی لازم تھی۔جب لا زم باطل ہو ا تو ملزوم بھی باطل ہو گیا۔اور اس طرح اس عبارت سے ختم زمانی اور ختم ذاتی دونوں کا خاتمہ ہو گیا۔“ (رساله رضوان یکم فروری ۱۹۵۷ء صفحه ۱۲ کالم اول) اس اعتراض کا معقول جواب یہی دیا جا سکتا ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک تاخیر زمانی خاتمیت مرتبی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری تشریعی اور مستقل نبی ہونے کے معنوں میں لازم ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریعی نبی ہیں نہ کہ غیر تشریعی نبی۔پس خاتمیت زمانی کے خاتمیت مرتبی کو لازم ہونے کی صورت میں غیر تشریعی امتی نبی کے پیدا ہو سکتے میں خاتمیت زمانی روک نہیں۔اس صورت میں خاتمیت زمانی خاتمیت مرتبی کو لازم بھی ہے اور خاتمیت مرتبی کی آئیندہ تاثیر میں کلیہ روک بھی نہیں۔تاخیر زمانی علی الاطلاق قرار دینے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلق آخری نبی قرار دینے کی صورت میں خاتمیت مرتبی تو منتفی ہو جاتی ہے۔اور اس کے منفی