مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 63 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 63

۶۳ مقام خاتم السنة ہونے کے ساتھ ہی اس کا لازم خاتمیت زمانی بھی منتفی ہو جاتا ہے کیونکہ جب ملزوم نہ رہا تو لازم کا وجود کیسے پایا جا سکتا ہے۔پس خاتمیت زمانی علی الاطلاق ماننے کی صورت میں خاتمیت محمدی میں ضرور فرق آجاتا ہے۔اور مولانا محمد قاسم صاحب کا یہ قول کاذب قرار پاتا ہے کہ آئندہ کسی نبی کے پیدا ہونے سے خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آتا۔چونکہ اُن کا یه قول درست ہے اس لئے حقیقت یہی ہے کہ خاتمیت زمانی سے مُراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع نبی ہیں۔نہ یہ کہ مطلق آخری نبی۔خود مولوی خالد محمود صاحب کا حضرت عیسی علیہ السّلام کے اصالتنا نزول کا عقیدہ بھی خاتمیت علی الاطلاق کے خلاف ہے۔محقق علماء کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت زمانی سے یہی مراد ہے کہ آپ کے بعد کوئی تشریعی نبی پیدا نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ امام علی القاری علیہ الرحمة حديث لا نَبِيَّ بَعْدِی کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔” مَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُثُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ بِشَرْعِ يَنْسَخُ شَرْعَة۔“ ( الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ صفحہ ۲۲۶) یعنی علماء کے نزدیک لا نبی بعدی کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی پیدانہ ہوگا جو شریعت محمدیہ کو منسوخ کرے۔بریلوی عالم کا دوسرا اعتراض مولا نا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ کے حامی مصنف ”چراغ سنت“ نے لکھا تھا کہ مولانامحمد قاسم صاحب نے بطور فرض کے یہ بات لکھی ہے۔اس پر معترض خاتمیت زمانی علی