مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 56 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 56

مقام <mark>خاتم</mark> النی ختم نبوت زمانی کو یکسر چھوڑ کر ختم نبوت مرتبی کے گن گانے لگے حالانکہ اسلامی عقیدہ ختم نبوت ہر دو صورتوں کا مطالبہ کرتا تھا کہ ختم نبوت زمانی پر بھی ایمان ہو اور ختم نبوت مرتبی کو اپنی جگہ تسلیم کیا جائے۔“ عقیدۃ الامته صفحه ۵۷-۵۸) مولوی خالد محمود صاحب پر واضع ہو کہ ہم احمدی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی <mark>خاتم</mark>یت مرتبی ہی کے گن نہیں گاتے بلکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی <mark>خاتم</mark>یت زمانی کے بھی ان معنوں میں قائل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شارع اور آخری مستقل <mark>نبی</mark> ہیں۔اور کوئی تشریعی اور مستقل <mark>نبی</mark> آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔آپ بھی <mark>خاتم</mark>یت زمانی ہی کے لحاظ سے تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی تشریعی <mark>نبی</mark> آسکتا ہے نہ مستقل <mark>نبی</mark>۔تبھی تو آپ حضرت عیسی علیہ السلام کے امتی <mark>نبی</mark> کی حیثیت میں آنے کے قائل ہیں۔پس ہم احمد یوں پر <mark>خاتم</mark>یت زمانی کے عقیدہ کو یکسر چھوڑنے کا الزام ایک بہتانِ عظیم ہے۔مولوی خالد محمود صاحب ! گو عوام نے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمتہ سے انصاف نہیں کیا مگر آپ بھی تو ان سے انصاف نہیں کر رہے۔کیونکہ آپ اُن کی طرف تاخیر زمانی یا بالفاظ دیگر <mark>خاتم</mark>یت زمانی کا ایسا مفہوم منسوب کرنا چاہتے ہیں جس سے <mark>خاتم</mark> التبين صلی اللہ علیہ وسلم کی <mark>خاتم</mark>یت مرتبی کی تاثیر کا آئیندہ کے لئے انقطاع لازم آئے اور <mark>خاتم</mark>یت مرتبی اور <mark>خاتم</mark>یت زمانی کے مفہوم میں تضاد اور تناقض پایا جائے۔اور مولانا موصوف کا اجتماع نقیضین کو تسلیم کرنا لازم آئے۔یہ امر تو حضرت مولانا موصوف کی عالمانہ شان کے منافی ہے۔اگر <mark>خاتم</mark>یت زمانی کے معنی علی الاطلاق آخری <mark>نبی</mark> قرار دیئے جائیں تو