مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 50 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 50

۵۰ مقام خاتم السنة او پر اور کوئی عہد و یا مرتبہ ہوتا ہی نہیں۔جو ہوتا ہے اس کے ماتحت ہوتا ہے اس لئے اس کے احکام اوروں کے احکام کے ناسخ ہوں گے۔اوروں کے احکام اس کے احکام کے ناسخ نہ ہوں گے۔اس لئے یہ ضرور ہے کہ وہ خاتم زمانی بھی ہو کیونکہ اوپر کے حاکم تک نوبت سب حکام ماتحت کے بعد آتی ہے اس لئے اس کا حکم آخر حکم ہوتا ہے۔چنانچہ ظاہر ہے کہ پارلیمنٹ تک مرافعہ کی نوبت سبھی کے بعد آتی ہے۔یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ کسی اور نبی نے دعویٰ خاتمیت نہ کیا۔کیا تو حضرت محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے کیا۔چنانچہ قرآن وحدیث میں یہ مضمون بتصریح موجود ہے۔“ ( مباحثہ شاہجہان پور صفحه ۲۴-۲۵) جلی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مولانا موصوف کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے مرتبہ میں سب سے بڑے اور اعلیٰ عہدہ دار ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی خاتمیت زمانی کا مفہوم صرف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اور انبیاء کے حکم کو منسوخ کر سکتے ہیں پر آپ کا حکم کوئی نبی منسوخ نہیں کر سکتا کیونکہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا حکم یعنی شریعت آخری ہے۔لہذا احکام الہی پہنچانے میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم آخری سند ہیں۔یہ ہے مفہوم خاتمیت زمانی کا مولا نا موصوف کے نزدیک۔لہذا ماتحت نبی کا آپ کے بعد آنا جو آپ کے حکم کو منسوخ نہ کر سکتا ہو۔بلکہ آپ کے دین اور شریعت کے احکام کو آخری سند سمجھتا ہو ، خاتمیت زمانی کے خلاف نہیں۔(۲) الف ” جو نبی مرتبہ میں سب سے اول ہوگا اس کا دین یعنی