مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 49
۴۹ مقام خاتم النی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تشریعی نبی پیدا نہیں ہوسکتا اسی طرح حضرت مولانامحمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ بھی خاتمیت مرتبی کے ساتھ تاخر زمانی کا لزوم انہی معنوں میں قرار دے رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔لہذا خاتمیت مرتبی کے فیض سے ایسا نبی پیدا ہوسکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور آپ کا امتی ہو۔اگر تاثیر زمانی علی الاطلاق قرار دیا جائے تو پھر خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی میں تناقض پیدا ہو جاتا ہے اور اجتماع النقیضین لازم آتا ہے جوامر محال ہے۔پس تاثر زمانی علی الاطلاق چونکہ مستلزم محال ہے اس لئے باطل ہے۔اور تاخر زمانی بلحاظ تشریعی و مستقل نبی کے خاتمیت مرتبی سے تناقض نہیں رکھتا اس لئے تاخر زمانی سے یہی مُراد ہو سکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی اور مستقل نبی ہیں۔یہی معنے خاتمیت مرتبی کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔اور انہی معنی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دائمی طور پر خاتم النبیین بمعنی خاتمیت مرتبی قرار پاتے ہیں۔مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی علیہ الرحمہ کی مندرجہ ذیل تحریرات بھی اس بات پر روشن دلیل ہیں کہ آپ کے نزدیک خاتمیت زمانی سے مراد یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشریعی نبی ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔(۱) جیسے عہدہ ہائے ماتحت میں سب میں او پر عہدہ گورنری یا وزارت ہے اور سوا اس کے اور سب عہدے اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔اوروں کے احکام کو ( وہ گورنر یا وزیر۔ناقل ) تو ڑسکتا ہے اس کے احکام کو اور کوئی نہیں تو ڑ سکتا۔وجہ اس کی یہی ہوتی ہے کہ اس پر ( سب سے اعلیٰ عہدہ۔ناقل پر مراتب عہدہ جات ختم ہو جاتے ہیں۔ایسے ہی خاتم مراتب نبوت کے