مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 34
۳۴ مقام خاتم الن ہاں ہم احمدی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم آیت خاتم النبیین میں کسی تاویل و تخصیص کے قائل نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک آیت خاتم النبیین کا اصل اور حقیقی مفہوم خاتمیت مرتبی ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت میں انتہائی کمال پر پہنچے ہوئے ہیں۔اور حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے افاضہ رُوحانیہ سے مقام نبوت بھی مل سکتا ہے۔اور خاتمیت مرتبی کے مقام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری تشریعی اور آخری مستقل نبی ہونا لازم ہے۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد کوئی شارع اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔ہاں آپ کے فیض سے آپ کا امتی مقام نبوت پاسکتا ہے۔اور وہ ایک پہلو سے امتی ہوگا، اور ایک پہلو سے نبی۔اور اس کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار نبوت کی ایک تجاتی ہوگی۔اور وہ آپ کا کامل ظل ہوگا۔اور وہ مستقل نبی نہیں ہوگا۔بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوگا۔دیکھ لیجئے خاتم النبیین کے ان حقیقی لغوی معنی کے رُو سے ہم آیت خاتم النبیین میں کسی تاویل اور تخصیص کے قائل نہیں۔البتہ حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِى اور حديث إِنِّي أَخِرُ الْأَنْبِيَاءِ میں تاویل و تخصیص کے مولوی خالد محمود صاحب اور اُن کے ہم خیال بھی قائل ہیں اور ہم بھی قائل ہیں۔پس مولوی خالد محمود صاحب کی یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ وہ ہمارے خاتم النبیین کے معنوں میں تاویل تخصیص کے قائل نہ ہونے کے باوجود ہم پر تو کفر والحاد کا فتویٰ لگارہے ہیں اور خود آیت خاتم النبیین کے یہ معنی لے کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہونے کے لحاظ سے آخری نبی ہیں۔آیت خاتم النبیین کی تاویل بھی کرتے ہیں اور اس کے معنوں میں تخصیص کے بھی قائل ہیں اور تاویل وتخصیص کی وجہ سے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کی حیثیت میں آنا مانتے ہیں، وہ پکے مسلمان ہیں۔