مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 28
(MA) مقام خاتم انا میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔لہذا کلمہ شہادت کی وجہ سے ایسے شخص کو عام عصمت حاصل ہوگی یعنی اُسے کا فرقرار دینا جائز نہ ہوگا۔اس کے بعد اُنہوں نے خاتم النبیین کی نص کی بعض رکیک تاویلات کرنے والے کا ذکر کیا ہے۔اور آگے چل کر اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ عقلاً نبی کا آنا محال نہیں اور آیت خاتم النبیین کی تاویل سے یہ شخص عاجز نہ ہوگا۔اس لئے فرماتے ہیں:۔" لَا يُمْكِنُ أَنْ نَدَّعِيَ اِسْتِحَالَتَهُ مِنْ حَيْثُ مُجَرَّدِ اللَّفْظِ فَإِنَّا فِي تَاوِيْلِ ظَوَاهِرِ التَّشْبِيْهِ قَضَيْنَا بِإِحْتِمَالَاتِ أَبْعَدَ مِنْ هَذِهِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ مُبْطِلاً لِلنُّصُوْصِ“ (الاقتصاد صفحه ۱۱۳) یعنی ہم خاتم النبيين اور لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے الفاظ کی ایسی تاویلات کے محال ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے کیونکہ ہم نے ظواہر تشبیہہ ( متشابہات ) میں اس شخص کے احتمالات ( تاویلات) سے بھی بہت دُور کے احتمالات سے فیصلہ دیا ہے اور ایسا شخص نصوص کو باطل کرنے والا قرار نہیں دیا۔اس سے ظاہر ہے کہ امام موصوف خَاتَمُ النَّبِيِّين اور لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی بعض رکیک تاویلات کرنے والے کی تکفیر میں بھی توقف کو ضروری قرار دینا چاہتے ہیں۔اور ایسے شخص کی تکفیر میں وہ عدم توقف کو جائز نہیں رکھتے مگر مولوی خالد محمود صاحب امام غزالی کی اس سے پہلی عبارت کو سیاق کے خلاف اپنے من گھڑت معنی دے کر امام غزالی کی طرف یہ منسوب کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خاتم النبیین اور لانی بعدی کی تاویل کرنے والے کو بلا توقف کافر قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ اس سے پہلی عبارت میں تکفیر میں جلد بازی سے منع فرمار ہے